« कटिहार में अंबेडकर जयंती पर एकजुटता की ताकत, भव्य शोभायात्रा से गूंजा संविधान बचाओ का नारा « बाबासाहेब के रास्ते पर चलकर ही बनेगा समरस समाज- सांसद तारिक अनवर « हिमंत बिस्वा सरमा के बयान पर भड़के पूर्व विधायक शकील अहमद खान, कहा– दलित समाज का अपमान बर्दाश्त नहीं « नरैहिया में डिग्री कॉलेज की मांग तेज, नहीं बना तो आंदोलन की चेतावनी सबहेड « कटिहार में 49 वर्षीय महिला रहस्यमय तरीके से लापता, परिजनों ने मुफस्सिल थाना में दिया आवेदन। « रोजीतपुर हाईवे पर भीषण सड़क हादसा: ट्रक-बाइक टक्कर में तीन युवकों की मौके पर मौत, चालक फरार « कटिहार कृषि विज्ञान केंद्र में दो दिवसीय कार्यशाला संपन्न, किसानों की आय बढ़ाने पर जोर « जाफरगंज में SBI संजीवनी परियोजना के तहत चला स्वच्छ भारत अभियान, ग्रामीणों ने लिया स्वच्छता का संकल्प « कटिहार के चार विद्यालयों में 400 बच्चों को मिला न्यूट्रिशन व हाइजिन किट, सेनेटरी पैड वेंडिंग मशीन भी लगाई गई « नशे के खिलाफ बड़ी कार्रवाई: प्रतिबंधित कोरेक्स कफ सिरप की खेप बरामद, अवैध नेटवर्क की जांच तेज
«Back
خدمت خلق سے قلب کو روحانی سکون محسوس ہوتا ہے: ڈاکٹر نیاز فوٹو
  • Latest News
  • 2025-07-11 20:55:55
  • सैयद शादाब आलम

خدمت خلق سے قلب کو روحانی سکون محسوس ہوتا ہے: ڈاکٹر نیاز فوٹو


 بے لوث اور رضائے الہی کے لیے خدمت خلق سب سے بہترین عبادت ہے اور

خدمت خلق سے جو دلی اور روحانی سکون ملتا ہے کسی میں نہیں ہے۔ مذکورہ باتیں ڈہریہ بھٹا چوک اور فور لین کے درمیان قومی شاہراہ-81 پر واقع ممتا نرسنگ ہوم میں جدید ترین سہولیات سے لیس آئی سی یو کے افتتاح کے موقع پر نرسنگ ہوم کے ڈائریکٹٹر ڈاکٹر محمد نیاز عالم نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ

ہمارے نرسنگ ہوم کی کیی اہم خصوصیات ہیں۔ ہم لوگ پہلے تو ماں اور بچے کا مکمل علاج کر رہے تھے لیکن اس میں بہت ساری دشواریاں آ رہی تھیں۔ بہت سارے نازک مریض جسے ہم نہیں لے پا رہے تھے تو اب اسی کا اپگریڈیشن ایک آئی سی یو کی شکل میں ہوا ہے۔ جہاں نازک مریض کو لائف سپورٹ کی ضرورت پڑتی ہے اب اس ضرورت کو وینٹیلیٹر پورا کرتا ہے۔ اس سے قبل ایسے مریض کو ہم لوگ کبھی پورنیہ کبھی بھاگلپور تو کبھی سلی گوری ریفر کیا کرتے تھے۔ اب ایسے مریضوں کے لیے ہم لوگوں نے 10 بیڈ کے آئی سی یو کا نظم کیا ہے۔ اور انشاءاللہ اب یہ کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ آئی سی یو میں جو بھی لائف تھریٹنگ کنڈیشن ہے جیسے کہ کسی کا بی پی فال کر رہا ہے کسی کو اچانک بلڈ کی ضرورت پڑ رہی ہے۔ ہارٹ فیلیور میں چلا گیا ہے۔ اس طرح کے مریض کو ہم لوگ آئی سی یو میں رکھتے ہیں۔ جو کہ لائف سپورٹ سسٹم کے ذریعے سے ہم لوگ کچھ دن مینٹین کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے پھر اس کا جو ایمو ڈائنیمک سپریس ہو جاتا ہے خواہ وہ خراب بیماری کی وجہ سے ہو یا جس بھی وجہ سے تو لائف سپورٹ دے کر اس کو مینٹین کیا جاتا ہے۔ پھر کچھ دنوں کے بعد دوائی کی وجہ سے اس کا سسٹم پھر نارمل ہو جاتا ہے۔ اور یہ سسٹم چوبیس گھنٹے کام کرتا ہے۔ نامہ نگار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ایکو کی مشین ایکسرے کی مشین ساری مشینیں آئی سی یو میں بہت جلد دستیاب ہوجائیں گی۔

نامہ نگار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مسٹر عالم نے کہا کہ ہمارا ہسپتال آٹھ سال پہلے سے ہی رن کر رہا ہے۔ اپنے ہسپتال میں غریب نادار اور کمزور مریضوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ 

وہیں موقع پر موجود آئی سی یو انچارج ڈاکٹر رضی اللہ نے بتایا کہ اس ہسپتال میں گائنی کے سارے آپریشن ہوتے تھے۔ سرجری کے جنرل آپریشن ہوتے تھے۔ لیکن گائنی میں بہت سارے مریض ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا بی پی بڑھا رہتا ہے۔ جن کو دورے کے چانسز ہوتے ہیں یا دورے حالت حمل میں بھی آتے رہتے ہیں۔ ان مریضوں کو آپریشن یا سیزرین  یا اسپریڈ کرنے کے دوران سانس کی دقت زیادہ ہوتی ہے۔ اگر آپریشن کرنے کے دوران کسی طرح کے کویء حادثے ہوتے ہیں یا دورے وغیرہ آتے ہیں تو میرا بیک اپ پلان آئی سی یو ہے۔ کسی بھی طرح کے گاینی کے ڈیلیوری سیزرین اور دورے وغیرہ کی کوئی بھی شکایت ہوگی تو یہاں بیک اپ پلان میں رہے گا۔ اگر سانس کی دقت زیادہ ہو جاتی ہے آکسیجن مینٹین نہیں کر رہا ہے یا مریض سانس نہیں لے پا رہا ہے تو اس کو لے کر ہمارے پاس ایڈوانس آئی سی یو ہے۔ جس کے اندر وینٹیلیٹر کی سہولت ہوتی ہے۔ جس کو لائف سپورٹ سسٹم کہتے ہیں۔ جو ہمارے یہاں دستیاب ہے۔ مریض کو کچھ وقت کے لیے وینٹیلیٹر پر رکھتے ہیں۔ مشین ہمارا ساتھ دیتا ہے اور جو مریض کی بیماری چل رہی ہے اتنا ہمیں ٹائم مل جاتا ہے کہ دوائیاں دے کر اس کی سانس والی بیماری کو ہم ٹھیک کر سکیں۔ ایک بار پھر دوبارہ پھیپڑے اپنے صحیح سے کام کرنے لگتے ہیں تب اسے وینٹیلیٹر سے دھیرے دھیرے ہٹا دیتے ہیں تو جو ہمارا کیئر والا چیز ہے وہ اپنے آپ میں بہت زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس سے ہمارا بہت حد تک مریض سدھر جاتا ہے۔ لیکن کوشش یہ ہوگی کہ ریفر کی ضرورت نہ پڑے لیکن اگر کبھی اس طرح کی بات آتی ہے جو یہاں نہیں ہے جس میں سپر اسپیشلسٹ کی ضرورت پڑ رہی ہے تو وہاں پھر ریفر کر دیکھا جائے گا یا پھر جو نارمل مریض جتنے ہیں جن میں ائی سی یو کیئر کی ضرورت ہے ایسے مریض کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

مریض کو سانس کی جتنی ضرورت ہوتی ہے اتنا نہیں لے پاتا ہے تب ایسے مریض وینٹیلیٹر کے ذریعہ سانس لیتا ہے۔ بہت ساری چیزیں کنٹرول نہیں ہوتی ہیں۔ کچھ مریض ایسے ہوتے ہیں جن کو 447 مانیٹرنگ کی ضرورت پڑتی ہے کہ کب اس کا بی پی بڑھ جائے اس کا بی پی ایک دم کم ہو جائے یا جان پر خطرے والی بات آ جائے۔ 


اس موقع پر ڈاکٹر شادان صدف پلمونولوجسٹ، ڈاکٹر عبدالرب انجم سرجن، ڈاکٹر مدحت صدیقی گائنی کالوجسٹ، ڈاکٹر گانگولی یورولوجسٹ وغیرہ موجود تھے۔