شہر کے سرکٹ ہاؤس میں اردو بیداری اور قومی یک جہتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا
شہر کے سرکٹ ہاؤس میں اردو بیداری اور قومی یک جہتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ اس اجلاس کی صدارت مہمان خصوصی کی حیثیت سے تشریف لائے انجمن ترقی اردو بہار کے سیکرٹری عبدالقیوم انصاری بھی موجود تھے پروگرام میں مدارس کے مسائل اردو زبان کی نشر و اشاعت اور اساتذہ کی تمام مشکلات کا کھل کر چرچہ ہوئی پروگرام میں مدارس کے اساتذہ نے اپنے مسائل سیدھے طور پر سیکریٹری کے سامنے رکھے۔ مہمان خصوصی نے کہا کہ بہار میں اردو کو دوسری سرکار زبان کا درجہ حاصل ہے اردو کی ترقی اور اس کے فروغ اور نشر و اشاعت کے لیے یہ ضروری ہے کہ بچے بہتر تعلیم حاصل کریں سرکاری دفاتر میں اردو میں درخواست دیے جاییں دفاتر کے نام اردو میں لکھے جائیں اور عام لوگوں میں اردو کی جانکاری میں اضافہ ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی قیادت مس اردو زبان اور مدارس کی ترقی کے لیے کئی قدم اٹھائے جا رہے ہیں۔ مدرسہ بھون کی تعمیر سے لے کر اساتذہ کی بحالی تک۔ اس موقع پر انجمن ترقی اردو کٹیہار کی جانب سے 10 نکاتی مطالبات کو لے کر میمورنڈم بھی سونپے گئے۔ میمورنڈم میں مخصوص طور پر ضلع میں اردو کی بلڈنگ کی تعمیر کا مطالبہ کیا گیا تاکہ کاموں میں آرہے پریشانیوں کو دور کیا جا سکے۔ اعزاز احمد قاسمی نے بتایا کہ انجمن ترقی بہار کے سیکرٹری سیمانچل کے دورے پر ہیں اور اس دوران مختلف اضلاع میں اردو اور مدارس سے جڑے تمام مسائل کو لے کر گفتگو ہو رہے ہیں۔ کٹیہار میں اردو زبان کی ترقی و فروغ اور قومی یکجہتی کے پیغام کو مضبوط کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم مانا جا رہا ہے۔




